22 فروری 2015 - 07:43
اعتزاز کی شہادت نے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، مجاہد علی بنگش

شہید اعتزاز حسن کے والد کا ’’اسلام ٹائمز‘‘کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ اعتزاز ہم سے پوچھا کرتا تھا یہ دہشتگرد کون ہیں، کیوں بے گناہوں کو خون میں نہلا دیتے ہیں، کہاں سے آتے ہیں اور پھر واردات کرکے کہاں چلے جاتے ہیں، کوئی انکو روکتا کیوں نہیں، وہ کہا کرتا تھا کہ میں ان دہشتگردوں کو دبوچ لوں گا اور انہیں مار دوں گا، شہید کو اپنی شہادت کا پہلے ہی علم ہوتا ہے۔ اعتزاز کی شہادت نے ہمیں سرخرو کر دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: انسانی فطرت ہے کہ انسانی فکر صرف ان ذہنوں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوتی ہے جو فکر انسان کی ذہنیت کو معراج عطا کرتی ہے۔ تاریخ صرف ان افراد کی عظمت کو سلام کرتی ہے جو اپنے کردار و عمل سے تاریخ مرتب کرتے ہیں، یہ بھی طے ہے کہ انسان اپنی تاریخ بھی خود ہی لکھتا آیا ہے، جس طرح ہنگو کے ایک گاؤں میں شہید اعتزاز حسن نے لکھی، اعتزاز اپنی جان پر کھیل کر سینکڑوں بچوں کو زندگیوں کا تحفہ دے گیا۔ وہ کم عمری میں ہی شہادت کے تعاقب میں تھا، شہادت اس کا خواب تھی، جو اسے ایک دن مل گئی۔ دہشت گردوں کے سامنے دیوار بننے والا اعتزاز آج امر ہوچکا ہے۔ شہید کے والد مجاہد علی بنگش لاہور تشریف لائے۔ ان کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا۔ مجاہد علی بنگش کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا۔ وہ شہید کا باپ ہونے پر فخر محسوس کر رہا تھا، ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے ان کے ساتھ ایک مختصر نشست کی۔ ان سے اعتزاز کے خیالات جانے اور انکے اپنے تاثرات پوچھے۔ مجاہد علی بنگش کے ساتھ ہونے والی گفتگو قارئین کے لئے پیش کی جا رہی ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: آپکا شکریہ کہ آپ نے وقت دیا، اعتزاز حسن نے واقعی ایسا کام کیا ہے کہ آپ کیساتھ ساتھ پوری قوم کو اس پر فخر ہے، اعتزاز کے بارے میں کچھ بتائیں، اسکو یہ خیال کیسے آیا۔؟
مجاہد علی بنگش: اعتزاز حسن میرے دوسرے بچوں کی نسبت کافی منفرد تھا، منفرد اس لئے کہ وہ اکثر مجھے کہا کرتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جو دہشت گردی کرتے ہیں، بے گناہ انسانوں کو خون میں نہلا دیتے ہیں۔ یہ دہشت گرد کہاں سے آتے ہیں؟ اور تباہی و بربادی پھیلا کر واپس کہاں چلے جاتے ہیں؟ میں اپنے معصوم بیٹے کے سوالوں کا کیا جواب دیتا، پھر جب اعتزاز کچھ اور بڑا ہوا تو اس کے خیالات اور خواب کچھ اور ہوگئے۔ وہ اکثر مجھے اور اپنی ماں کو کہتا تھا کہ دہشت گرد اگر میرے سامنے آگیا تو میں اسے دبوچ کر مار ڈالوں گا۔ اعتزاز حسن کو اپنے چچا سے بہت لگاؤ تھا۔ وہ اکثر اس کے ساتھ بھی یہی باتیں کرتا رہتا اور پھر وہی ہوا جس کا وہ اظہار کیا کرتا تھا۔ شائد خدا تعالٰی کو اس کی شہادت منظور تھی، اور وہ وطن پر قربان ہوگیا اور دنیا و آخرت میں ہمارا سر فخر سے بلند کر گیا۔

اسلام ٹائمز: جب آپکو اعتزاز کی شہادت کی اطلاع ملی، آپ اس وقت کہاں تھے۔؟
مجاہد علی بنگش: میں دبئی میں تھا، مجھے فون پر اطلاع دی گئی، گھر والوں نے کہا کہ ہم راستے میں ہیں اور معلوم ہوا ہے کہ اعتزاز حسن زخمی ہوا ہے۔ تھوڑی دیر بعد پھر فون آیا کہ وہ شہید ہوگیا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنے کے بعد خدا کا شکر ادا کیا کہ میرا بیٹا شہید ہوگیا ہے اور اب میں مرتے دم تک شہید کا باپ کہلاؤں گا۔ تب مجھے پتہ چلا کہ اعتزاز اکثر ہم سے یہ کیوں پوچھا کرتا تھا کہ دہشت گرد کون ہوتے ہیں، مجھے ملیں گے تو دبوچ لوں گا، دوسرے لفظوں میں وہ شہادت کی تلاش میں تھا اور شہادت اس کی تلاش میں تھی، دونوں ایک دوسرے سے مل گئے۔ اعتزاز خود تو شہید ہوگیا لیکن ہمارے سر فخر سے بلند کر گیا۔

اسلام ٹائمز: آپ نے اعتزاز کے جنازے میں شرکت کی۔؟
مجاہد علی بنگش: جنازے میں شرکت نہیں کرسکا، جس کا دکھ رہے گا، دھماکے کے بعد اس کی باڈی کافی زیادہ متاثر ہوئی تھی، جس وجہ سے جلدی تدفین کرنا پڑی، میں نے دبئی سے جلدی نکلنے کی بہت کوشش کی، لیکن ٹکٹ کرانے اور پاس آؤٹ ہونے میں کچھ ٹائم لگ گیا، جس کی وجہ سے میں بروقت نہ پہنچ سکا، البتہ ساری صورت حال سے لمحہ بہ لمحہ مجھے بذریعہ ٹیلی فون آگاہ کیا جا رہا تھا، اور دنیا بھر کے میڈیا میں بھی یہ خبریں چل رہی تھیں، اعتزاز کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا تھا۔

اسلام ٹائمز: جوان اولاد کی موت بھی تو باپ کے لئے بہت بڑا دکھ ہوتی ہے۔؟
مجاہد علی بنگش: نہیں مجھے دکھ نہیں، مجھے تو خوشی ہے کہ میرے خاندان میں بھی کسی کو شہادت نصیب ہوئی اور شہید کا لقب ملا، اس کی یادیں، باتیں، سکول آنا، جانا، شکار پر جانا، گھر میں دوسرے بہن بھائیوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا، یہ سب کچھ مجھے مرتے دم تک یاد رہے گا۔

اسلام ٹائمز: ماں کا دل بہت نرم ہوتا ہے، اعتزاز حسن کی والدہ کے کیا تاثرات ہیں، وہ کیا سوچتی ہیں۔؟
مجاہد علی بنگش: ماں تو ماں ہوتی ہے، اس کے دکھ بھی گہرے ہوتے ہیں، اس کے باوجود وہ خوش ہے کہ اس کے بیٹے نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ لوگ اس کی شہادت کو یاد کرتے ہیں، میڈیا پر اس کے کردار کو سراہا جا رہا ہے، ہمیں خوشی ہوتی ہے، کیونکہ شہادت کا فیصلہ اوپر ہوتا ہے، یہ اللہ تعالٰی کے فیصلے ہوتے ہیں، جب اللہ تعالٰی نے ایسا ہی لکھا تھا تو پھر ہم کیوں روئیں، ہم اللہ کی رضا پر راضی ہیں، ہمارے سامنے کربلا ہے، کربلا نے یہ درس دیا ہے کہ شہادت کی موت ہمارے لئے سعادت کی موت ہے۔ جب وہ عورتیں جن کے بچے اعتزاز کی وجہ سے بچ گئے ہیں، وہ ہمارے گھر آتی ہیں تو اعتزاز کی ماں کا شکریہ ادا کرتی ہیں، کہ بہن تیرے بیٹے نے ہمارے سہارے بچا لئے، تو اس وقت اعتزاز کی ماں کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے۔

اسلام ٹائمز: دوسرے بچے بھی بھائی کو یاد کرتے ہیں، اسکی کمی تو محسوس ہوتی ہوگی۔؟
مجاہد علی بنگش: ظاہر ہے وہ اس کو بہت زیادہ مس کرتے ہیں، لیکن اپنے دکھ کا اظہار نہیں کرتے، خاموش خاموش رہتے ہیں، ان کی نظریں اب بھی اعتزاز کو تلاش کرتی ہیں۔ وہ ہر روز یہ امید لگائے ہوتے ہیں کہ اعتزاز گھر آجائے گا، وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اعتزاز شکار پر گیا ہے، یا سکول گیا ہے تو آجائے گا۔ ظاہر ہے وہ بچے ہیں تو بچے حساس ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ اعتزاز کے سکول کے بچے بھی اسے بہت مس کرتے ہیں۔ بچوں نے بھی ہمیں بتایا کہ اعتزاز ان سے بھی کہا کرتا تھا کہ ایک دن تم سب مجھے یاد کرو گے جب میں شہید ہو جاؤں گا۔ تو شہید کو شائد پہلے ہی پتہ چل چکا ہوتا ہے کہ وہ درجہ شہادت پر فائز ہونے والا ہے۔ اعتزاز بھی یہ جان چکا تھا کہ وہ عظیم عہدے پر فائز ہونے جا رہا ہے، اس کے لئے وہ پہلے سے ہی آمادہ و تیار تھا۔

اسلام ٹائمز: اعتزاز کی شہادت سے پہلے اور اب کیا حالات ہیں، آپ نے کوئی تبدیلی محسوس کی۔؟
مجاہد علی بنگش: گاؤں میں میری ایک عام سی حیثیت تھی، وہی میل میلاپ، خاموشی سے آنا اور چلے جانا، مگر جب سے اعتزاز کو شہادت کا درجہ ملا ہے، تب سے صورت حال یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ دنیا بھر سے لوگ اس گاؤں کو دیکھنے آرہے ہیں، گاؤں کا نام روشن ہوا ہے، میں جہاں سے گزرتا ہوں، لوگ احترام دیتے ہیں، میرے بیٹے کام نام لے کر یاد کرتے ہیں، لوگوں نے اپنے گھروں میں اعتزاز کی تصاویر رکھی ہوئی ہیں، سب لوگ دعائیں دیتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ شہید کا مرتبہ تھا، جس کے لئے لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، اسے اور پھر اس کی وجہ سے ہمیں احترام دیتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اعتزاز کی شہادت کے بعد آپکے لئے بھی تو خطرات ہوں گے۔؟
مجاہد علی بنگش: میں اس آزادی کے ساتھ تو نہیں گھوم سکتا جس طرح پہلے گھومتے پھرتے تھے، ظاہر ہے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنانے کا ’’جرم‘‘ تو بہرحال ہمارے بچے نے کیا ہے۔ دہشت گرد اس بات پر سیخ پا ہیں کہ اعتزاز نے دیگر سینکڑوں بچوں کو کیوں بچایا، میں جہاں جاتا ہوں سکیورٹی کے ساتھ جاتا ہوں، گو اعتزاز نے ہمارے اندر بہادری کی روح پھونکی ہے، ہمارے اندر جذبہ بھی پیدا کیا ہے، اور آنے والی نسلوں کو باور کرا گیا ہے کہ شہادت کی موت اس کو کہتے ہیں، میرا بڑا بیٹا بھی بہت محتاط ہے، خطرات تو ہیں لیکن دل میں یہ خوف نہیں کہ مار دیئے جائیں گے، ہم بہادر پختون ہیں، موت سے ڈرا نہیں کرتے، بلکہ موت کا مقابلہ کرنا ایک بہادری ہے، خاص کر اس وقت جب ملک میں حالت جنگ ہو، اور آپ اس جنگ میں ملک کے کام آسکیں، یہ جسم و جاں ملک کی امانت ہیں، بس ذرا احتیاط کرتا ہوں۔

اسلام ٹائمز: کیا پیغام دینا چاہیں گے قوم کو؟؟
مجاہد علی بنگش: جوانوں کے لئے یہی پیغام ہے کہ وہ ملک و قوم کی عزت کے لئے اپنے اندر شہادت کا جذبہ لے کر زندگی بسر کریں، دہشت گردوں سے ہم نے اسی صورت میں انتقام لینا ہے، جب ہم ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔ اعتزاز تو ایک گاؤں کا بچہ تھا، جس نے جو محسوس کیا اس پر عمل کر گزرا، مجھے کوئی دکھ نہیں، نہ کسی قسم کا کوئی غم ہے، اگر میرے باقی بچے بھی ملک کی خاطر قربان ہوگئے تو بھی مجھے فخر ہوگا اور میرا ایمان مزید پختہ ہوجائے گا۔

اسلام ٹائمز: زندگی میں اعتزاز کے نام کو کیسے زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔؟
مجاہد علی بنگش: شہادت اعتزاز حسن کا مشن تھی، میں کوشش کروں گا کہ اس کے نام پر کوئی ٹرسٹ بناؤں، جس سے اس کا نام روشن رہے، ایسے جذبوں کو ویسے بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے، اپنے لئے تو سب جیتے ہیں، مزہ اس میں ہے کہ دوسروں کے لئے کچھ کرو، اور اعتزاز نے بڑھ چڑھ کر کیا، اتنا زیادہ کیا کہ اپنی جاں سے گزر گیا۔ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں، ان کو زندہ رکھنا بھی بنتا ہے، اس کے علاوہ ہمارا تو کامل ایمان ہے کہ شہید زندہ ہوتا ہے۔ اس کو یاد رکھنے کے لئے کچھ نہ بھی کیا جائے تو وہ مرتا نہیں، امر ہوجاتا ہے، آپ کربلا کو دیکھیں 14 سو سال ہوگئے ہیں، کربلا کا ایک ایک شہید زندہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سانحہ کربلا کل کا واقعہ ہے، ہر بار سنیں تو تازگی کا احساس ہوتا ہے، انسان ان واقعات کو سنتے ہوئے تھکتا نہیں، یہ شہید کی عظمت ہے، جو اسے زندہ رکھتی ہے، تو انشاءاللہ ہمارا اعتزاز بھی زندہ رہے گا، قوم کے دلوں میں زندہ رہے گا، ان بچوں کے دلوں میں زندہ رہے گا جن کو اس نے اپنی جان دے کر زندگیاں بخشی ہیں، وہ بھلا اعتزاز کو کیسے بھلا سکتے ہیں۔

.....

/169